چاندنی رات میں شانوں سے ڈھلکتی چادر (ردیف .. ے)

صابر دت

چاندنی رات میں شانوں سے ڈھلکتی چادر (ردیف .. ے)

صابر دت

MORE BY صابر دت

    چاندنی رات میں شانوں سے ڈھلکتی چادر

    جسم ہے یا کوئی شمشیر نکل آئی ہے

    مدتوں بعد اٹھائے تھے پرانے کاغذ

    ساتھ تیرے مری تصویر نکل آئی ہے

    کہکشاں دیکھ کے اکثر یہ خیال آتا ہے

    تیری پازیب سے زنجیر نکل آئی ہے

    صحن گلشن میں مہکتے ہوئے پھولوں کی قطار

    تیرے خط سے کوئی تحریر نکل آئی ہے

    چاند کا روپ تو رانجھے کی نظر مانگے ہے

    رین ڈولی سے کوئی ہیر نکل آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY