چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

سیماب اکبرآبادی

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

سیماب اکبرآبادی

MORE BYسیماب اکبرآبادی

    چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

    قفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے

    کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے

    جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

    سحر تک سعیٔ نالہ رائیگاں معلوم ہوتی ہے

    یہ دنیا تو بقدر یک فغاں معلوم ہوتی ہے

    کسی کے دل میں گنجائش نہیں وہ بار ہستی ہوں

    لحد کو بھی مری مٹی گراں معلوم ہوتی ہے

    خزاں کے وقت بھی خاموش رہتی ہے فضا ساری

    چمن کی پتی پتی راز داں معلوم ہوتی ہے

    ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو

    جہاں منزل بھی گرد کارواں معلوم ہوتی ہے

    ترقی پر ہے روز افزوں خلش درد محبت کی

    جہاں محسوس ہوتی تھی وہاں معلوم ہوتی ہے

    قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے

    کہ ہر بجلی قریب آشیاں معلوم ہوتی ہے

    نہ کیوں سیمابؔ مجھ کو قدر ہو ویرانئ دل کی

    یہ بنیاد نشاط دو جہاں معلوم ہوتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-zarrin (Pg. 211)
    • Author : Khvaja Mohammad Zakariya
    • مطبع : Sangeet publication (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY