چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

عبد اللہ جاوید

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

عبد اللہ جاوید

MORE BYعبد اللہ جاوید

    چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

    مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا

    یہ بھی بہت ہے سینکڑوں پودے ہرے ہوئے

    کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا

    ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے

    دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا

    سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ

    ڈھونڈوگے تیرگی میں کہ سایہ کدھر گیا

    ہم جس کے انتظار میں جاگے تمام رات

    آیا بھی وہ تو خواب کی صورت گزر گیا

    ہم نے تو گل کی چاند کی تارے کی بات کی

    سب اہل انجمن کا گماں آپ پر گیا

    گھر ہی نہیں رہا ہے سلامت بتائیں کیا

    جاویدؔ کے بعد سیل بلا کس کے گھر گیا

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazalistaan (Pg. 182)
    • Author : Farkhanda Hashmi, Najeeb Rampuri
    • مطبع : Farid Book Depot ltd, New Delhi (2003)
    • اشاعت : 2003

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY