چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

شہزاد احمد

MORE BY شہزاد احمد

    چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا

    وہ غیر تھا اسے اپنا بنا کے چھوڑ دیا

    ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب

    یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

    میں اپنی جاں میں اسے جذب کس طرح کرتا

    اسے گلے سے لگایا لگا کے چھوڑ دیا

    میں جا چکا ہوں مرے واسطے اداس نہ ہو

    میں وہ ہوں تو نے جسے مسکرا کے چھوڑ دیا

    کسی نے یہ نہ بتایا کہ فاصلہ کیا ہے

    ہر ایک نے مجھے رستہ دکھا کے چھوڑ دیا

    ہمارے دل میں ہے کیا جھانک کر نہ دیکھ سکے

    خود اپنی ذات سے پردہ اٹھا کے چھوڑ دیا

    وہ تیرا روگ بھی ہے اور ترا علاج بھی ہے

    اسی کو ڈھونڈ جسے تنگ آ کے چھوڑ دیا

    وہ انجمن میں ملا بھی تو اس نے بات نہ کی

    کبھی کبھی کوئی جملہ چھپا کے چھوڑ دیا

    رکھوں کسی سے توقع تو کیا رکھوں شہزادؔ

    خدا نے بھی تو زمیں پر گرا کے چھوڑ دیا

    مآخذ:

    • کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 320)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY