چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

حکیم محمد اجمل خاں شیدا

MORE BY حکیم محمد اجمل خاں شیدا

    چرچا ہمارا عشق نے کیوں جا بجا کیا

    دل اس کو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا

    اب کھولیے کتاب نصیحت کو شیخ پھر

    شب مے کدہ میں آپ نے جو کچھ کیا کیا

    وہ خواب ناز میں تھے مرا دیدۂ نیاز

    دیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا

    روز ازل سے تا بہ ابد اپنی جیب کا

    تھا ایک چاک جس کو میں بیٹھا سیا کیا

    دیکھے جو داغ دامن عصیاں پہ بے شمار

    میں نے بھی جوش گریہ سے طوفاں بپا کیا

    گم کردہ راہ آئے ہیں وہ آج میرے گھر

    اے میری آہ نیم شبی تو نے کیا کیا

    کیا پوچھتے ہو دست قناعت کی کوتہی

    کچھ وا شب وصال میں بند قبا کیا

    لذت ہی تھی کچھ ایسی کہ چھوڑا نہ صبر کو

    کرتے رہے وہ جور و ستم میں سہا کیا

    کیا شے تھی وہ جو آنکھ سے دل میں اتر گئی

    دل سے اٹھی تو اشک کا طوفاں بپا کیا

    پھر لے چلا ہے کل مجھے کیوں بزم یار میں

    ایجاد اس نے کیا کوئی طرز جفا کیا

    شیداؔ غزل پڑھو کوئی مجلس میں دوسری

    اک پڑھ کے رہ گئے تو بھلا تم نے کیا کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites