چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

فصیح اکمل

چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

فصیح اکمل

MORE BY فصیح اکمل

    چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا

    کوئی خوابوں سے مجھے دشت بلا تک لے گیا

    ٹوٹتی پرچھائیوں کے شہر میں تنہا ہوں اب

    حادثوں کا سلسلہ غم آشنا تک لے گیا

    دھوپ دیواروں پہ چڑھ کر دیکھتی ہی رہ گئی

    کون سورج کو اندھیروں کی گپھا تک لے گیا

    عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں

    وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

    اس قدر گہری اداسی کا سبب کھلتا نہیں

    جیسے ہونٹوں سے کوئی حرف دعا تک لے گیا

    جانے کس امید پر اک آرزو کا سلسلہ

    مجھ سے پیہم دور ہوتی اک صدا تک لے گیا

    خاک میں ملتے ہوئے برگ خزاں سے پوچھیے

    کون شاخوں سے اسے اونچی ہوا تک لے گیا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    چشم حیرت کو تعلق کی فضا تک لے گیا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY