چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

افضل منہاس

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

افضل منہاس

MORE BYافضل منہاس

    چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

    اب اگر کھولے تو ہم کو قید تنہائی ملی

    زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیں

    تب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی

    موسم گل کی نئی تقسیم حیراں کر گئی

    زخم پھولوں کو ملے کانٹوں کو رعنائی ملی

    سطح دریا پر ابھرنے کی تمنا ہی نہیں

    عرش پر پہنچے ہوئے ہیں جب سے گہرائی ملی

    دوسروں کو سنگ دل کہنا بڑا آسان تھا

    خود کو جب دیکھا تو اپنی آنکھ پتھرائی ملی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY