داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

کیف بھوپالی

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

کیف بھوپالی

MORE BY کیف بھوپالی

    داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

    ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

    ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے

    وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے

    خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا

    کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے

    ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج

    ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

    کبھی لکھوانے گئے خط کبھی پڑھوانے گئے

    ہم حسینوں سے اسی حیلے بہانے سے ملے

    اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملی

    جب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے

    ایک ہم ہی نہیں پھرتے ہیں لیے قصۂ غم

    ان کے خاموش لبوں پر بھی فسانے سے ملے

    کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔ

    ان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بھارتی وشوناتھن

    بھارتی وشوناتھن

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY