دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

حیدر علی آتش

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

    کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

    زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا

    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں

    گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

    بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں

    مریدان پیر مغاں کیسے کیسے

    عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن

    لٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے

    تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں

    جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

    نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا

    تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

    نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا

    مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

    بہار گلستاں کی ہے آمد آمد

    خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

    توجہ نے تیری ہمارے مسیحا

    توانا کئے ناتواں کیسے کیسے

    دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے

    تمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے

    غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں

    ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

    ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں

    دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

    کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے

    مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY