دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا

اقبال ساجد

دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    دہر کے اندھے کنویں میں کس کے آوازہ لگا

    کوئی پتھر پھینک کر پانی کا اندازہ لگا

    ذہن میں سوچوں کا سورج برف کی صورت نہ رکھ

    کہر کے دیوار و در پر دھوپ کا غازہ لگا

    رات بھی اب جا رہی ہے اپنی منزل کی طرف

    کس کی دھن میں جاگتا ہے گھر کا دروازہ لگا

    کانچ کے برتن میں جیسے سرخ کاغذ کا گلاب

    وہ مجھے اتنا ہی اچھا اور تر و تازہ لگا

    پیار کرنے بھی نہ پایا تھا کہ رسوائی ملی

    جرم سے پہلے ہی مجھ کو سنگ خمیازہ لگا

    شہر کی سڑکوں پر اندھی رات کے پچھلے پہر

    میرا ہی سایہ مجھے رنگوں کا شیرازہ لگا

    جانے رہتا ہے کہاں اقبال ساجدؔ آج کل

    رات دن دیکھا ہے اس کے گھر کا دروازہ لگا

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-iqbaal saajid (Pg. 63)
    • Author : javaaz jaafrii
    • مطبع : jang publishar (1994)
    • اشاعت : 1994

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY