ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں

سیداحتشام حسین

ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں

سیداحتشام حسین

MORE BYسیداحتشام حسین

    ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں

    کھوئی ہوئی اپنی ہی صدا ہوں

    ہر لمحۂ ہجر اک صدی تھا

    پوچھو نہ کہ کب سے جی رہا ہوں

    جب آنکھ میں آ گئے ہیں آنسو

    خود بزم طرب سے اٹھ گیا ہوں

    چھٹتی نہیں خوئے حق شناسی

    سقراط ہوں زہر پی رہا ہوں

    رہبر کی نہیں مجھے ضرورت

    ہر راہ کا موڑ جانتا ہوں

    منزل نہ ملی تو غم نہیں ہے

    اپنے کو تو کھو کے پا گیا ہوں

    اپنی ہی ہوس تھی سر کشیدہ

    دامن سے الجھ کے گر پڑا ہوں

    عریانئ فکر کھل نہ جائے

    خوابوں کے لباس سی رہا ہوں

    ہر منزل مرگ آفریں میں

    سرگشتۂ زندگی رہا ہوں

    دھبے ہیں بہت سے تیرگی کے

    کن روشنیوں میں گھر گیا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ڈر ڈر کے جسے میں سن رہا ہوں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY