ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں

منیر نیازی

ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں

منیر نیازی

MORE BYمنیر نیازی

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں

    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں

    جیسے رسم ادا کرتے ہوں شہروں کی آبادی میں

    صبح کو گھر سے دور نکل کر شام کو واپس آنے میں

    نیلے رنگ میں ڈوبی آنکھیں کھلی پڑی تھیں سبزے پر

    عکس پڑا تھا آسمان کا شاید اس پیمانے میں

    دبی ہوئی ہے زیر زمیں اک دہشت گنگ صداؤں کی

    بجلی سی کہیں لرز رہی ہے کسی چھپے تہہ خانے میں

    دل کچھ اور بھی سرد ہوا ہے شام شہر کی رونق سے

    کتنی ضیا بے سود گئی شیشے کے لفظ جلانے میں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا

    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-muniir niyaazii (Pg. 439)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY