دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی

مظفر حنفی

دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی

مظفر حنفی

MORE BYمظفر حنفی

    دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی

    تنہائی ڈس رہی ہے پکارے مجھے کوئی

    گو جانتا ہوں سب ہی نشانے پہ ہیں یہاں

    پاگل ہوں چاہتا ہوں نہ مارے مجھے کوئی

    مٹھی صدف نے بھینچ رکھی ہے کہ چھو کے دیکھ

    موتی پکارتا ہے ابھارے مجھے کوئی

    کانٹوں میں رکھ کے پھول ہوا میں اڑا کے خاک

    کرتا ہے سو طرح سے اشارے مجھے کوئی

    اب تک تو خودکشی کا ارادہ نہیں کیا

    ملتا ہے کیوں ندی کے کنارے مجھے کوئی

    بکھرا ہوا ہوں وقت کے شانے پہ گرد سا

    اک زلف پر شکن ہوں سنوارے مجھے کوئی

    RECITATIONS

    مظفر حنفی

    مظفر حنفی,

    مظفر حنفی

    دریائے شب کے پار اتارے مجھے کوئی مظفر حنفی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے