دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا

بیدل حیدری

دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا

بیدل حیدری

MORE BYبیدل حیدری

    دریا نے کل جو چپ کا لبادہ پہن لیا

    پیاسوں نے اپنے جسم پہ صحرا پہن لیا

    وہ ٹاٹ کی قبا تھی کہ کاغذ کا پیرہن

    جیسا بھی مل گیا ہمیں ویسا پہن لیا

    فاقوں سے تنگ آئے تو پوشاک بیچ دی

    عریاں ہوئے تو شب کا اندھیرا پہن لیا

    گرمی لگی تو خود سے الگ ہو کے سو گئے

    سردی لگی تو خود کو دوبارہ پہن لیا

    بھونچال میں کفن کی ضرورت نہیں پڑی

    ہر لاش نے مکان کا ملبہ پہن لیا

    بیدلؔ لباس زیست بڑا دیدہ زیب تھا

    اور ہم نے اس لباس کو الٹا پہن لیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY