دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں

جاوید ناصر

دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں

جاوید ناصر

MORE BY جاوید ناصر

    دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیں

    اس کہانی میں بہر حال کئی باتیں ہیں

    گو ترے ساتھ مرا وقت گزر جاتا ہے

    شہر میں اور بھی لوگوں سے ملاقاتیں ہیں

    جتنے اشعار ہیں ان سب پہ تمہارا حق ہے

    جتنی نظمیں ہیں مری نیند کی سوغاتیں ہیں

    کیا کہانی کو اسی موڑ پہ رکنا ہوگا

    روشنی ہے نہ سمندر ہے نہ برساتیں ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY