دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عباس تابش

MORE BY عباس تابش

    دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس

    جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا

    ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں اٹھ کر چپ چاپ

    ہم تو یہ دھیان میں لاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے

    جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

    لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ

    جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں فہد حسین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY