دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

احمد خیال

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

احمد خیال

MORE BYاحمد خیال

    دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے

    اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے

    میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک

    خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے

    عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے

    یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے

    اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے

    اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے

    گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیالؔ

    پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY