دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

ظفر گورکھپوری

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

ظفر گورکھپوری

MORE BY ظفر گورکھپوری

    دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

    اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے

    اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے

    لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے

    نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر

    دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے

    دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک

    سورج سا آئینے سے گزرتا دکھائی دے

    چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں

    لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے

    کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ

    اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites