دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا

سلیم احمد

دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا

    دوسری شرط ہے پھر آنکھ کا پتھر ہونا

    وہاں دیوار اٹھا دی مرے معماروں نے

    گھر کے نقشے میں مقرر تھا جہاں در ہونا

    مجھ کو دیکھا تو فلک زاد رفیقوں نے کہا

    اس ستارے کا مقدر ہے زمیں پر ہونا

    باغ میں یہ نئی سازش ہے کہ ثابت ہو جائے

    برگ گل کا خس و خاشاک سے کم تر ہونا

    میں بھی بن جاؤں گا پھر سحر ہوا سے کشتی

    رات آ جائے تو پھر تم بھی سمندر ہونا

    وہ مرا گرد کی مانند ہوا میں اڑنا

    پھر اسی گرد سے پیدا مرا لشکر ہونا

    در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا

    گھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا

    کیسا گرداب تھا وہ ترک تعلق تیرا

    کام آیا نہ مرے میرا شناور ہونا

    تم تو دشمن بھی نہیں ہو کہ ضروری ہے سلیمؔ

    میرے دشمن کے لیے میرے برابر ہونا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دیکھنے کے لیے اک شرط ہے منظر ہونا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY