دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

عندلیب شادانی

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

عندلیب شادانی

MORE BYعندلیب شادانی

    دلچسپ معلومات

    اس غزل کے مطلع کو فلم وجےپتھ 1994 کے ایک گانے کے مکھڑے کے طور پر گایا گیا ہے

    دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

    آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

    شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول

    اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو

    چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک

    کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو

    کیوں یہ مہرانگیز تبسم مد نظر جب کچھ بھی نہیں

    ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو

    سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے

    پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو

    جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے

    اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو

    نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو

    اک بے بس انسان کرے کیا ٹوٹ کے دل آ جائے تو

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عندلیب شادانی

    عندلیب شادانی

    RECITATIONS

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو جگجیت سنگھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY