ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

دتا تریہ کیفی

ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

دتا تریہ کیفی

MORE BYدتا تریہ کیفی

    ڈھونڈھنے سے یوں تو اس دنیا میں کیا ملتا نہیں

    سچ اگر پوچھو تو سچا آشنا ملتا نہیں

    آپ کے جو یار بنتے ہیں وہ ہیں مطلب کے یار

    اس زمانے میں محب با صفا ملتا نہیں

    سیرتوں میں بھی ہے انسانوں کی باہم اختلاف

    ایک سے صورت میں جیسے دوسرا ملتا نہیں

    دیر و کعبہ میں بھٹکتے پھر رہے ہیں رات دن

    ڈھونڈھنے سے بھی تو بندوں کو خدا ملتا نہیں

    ہیں پریشاں اور حیراں جائیں تو جائیں کدھر

    راہ گم گشتوں کو منزل کا پتا ملتا نہیں

    بوالہوس دل کی طرح ہر رنگ ہے صرف شکست

    لالہ و گل میں بھی رنگ دیر پا ملتا نہیں

    ہے یہاں تو سیر گلزار خیال نوع بہ نوع

    ہاں اسیرو ہم کو مضموں کچھ نیا ملتا نہیں

    روئیے رونا زمانے کا تو کیفیؔ کس کے پاس

    کوئی اس دل کے سوا درد آشنا ملتا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY