دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

محسن زیدی

دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

محسن زیدی

MORE BYمحسن زیدی

    دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے

    چاروں طرف بس ایک سمندر دکھائی دے

    گھر پر نظر کروں تو بیابان سا لگے

    اور دشت بے کنار مجھے گھر دکھائی دے

    خوابوں کے درمیان ہے مدت سے ایک جنگ

    میدان کارزار نہ لشکر دکھائی دے

    یہ کیا کہ پھر بھی جسم ہے اپنا لہو لہان

    آتا ہوا کہیں سے نہ پتھر دکھائی دے

    ہر شام زندگی کا نیا خواب لے کے آئے

    ہر صبح اپنی موت کا منظر دکھائی دے

    اس طرح پڑھ رہے ہیں وہ تحریر ہاتھ کی

    ہاتھوں میں جیسے میرا مقدر دکھائی دے

    تیر و کمان آپ بھی محسنؔ سنبھالیے

    جب دوستی کی آڑ میں خنجر دکھائی دے

    مأخذ :
    • کتاب : sheerazah (Pg. 56)
    • Author : makhmoor saeedi,Parem Gopal Mittal
    • مطبع : P -K Publication 3072 Partap stareet gola Market -Daryaganj delhi-6 (1973)
    • اشاعت : 1973

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے