دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیا

محشر بدایونی

دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیا

محشر بدایونی

MORE BY محشر بدایونی

    دل اپنا حریف سیل بلا اب کیا کہیں کتنا ٹوٹ گیا

    آج اور تھپیڑے ٹکرائے آج اور کنارا ٹوٹ گیا

    پیکار ہی جن کا شیوہ ہو وہ تند ہوائیں کیا سمجھیں

    گل زار تو ہم پر تنگ ہوا بازو تو ہمارا ٹوٹ گیا

    مٹی سے خواب تراشا تھا سو اس کی یہ تعبیر ملی

    اب آدھا گھروندا باقی ہے اور آدھا گھروندا ٹوٹ گیا

    گھر بھی وہی گھر والے بھی وہی پر کیا لگے اس ماحول میں جی

    دیوار سے رشتہ قائم ہے سائے سے رشتہ ٹوٹ گیا

    جس کے لئے بچہ رویا تھا اور پونچھے تھے آنسو بابا نے

    وہ بچہ اب بھی زندہ ہے وہ مہنگا کھلونا ٹوٹ گیا

    کب دیدۂ گل ہوا دامن جو جب چھوڑ گئی گل کو خوشبو

    کب آیا شجر کو ہوش نمو جب پتا پتا ٹوٹ گیا

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Mahshar Badayuni (Pg. 369)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY