دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

    امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

    مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی

    یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

    وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں

    مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں

    یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک

    مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

    تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے

    وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

    ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے

    ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں

    قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ

    کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY