دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے

لالہ مادھو رام جوہر

MORE BYلالہ مادھو رام جوہر

    دل جب سے ترے ہجر میں بیمار پڑا ہے

    جینے سے خفا جان سے بے زار پڑا ہے

    سودا نہ بنا گیسوئے جاناں سے تو کیا غم

    لے لیں گے کہیں اور سے بازار پڑا ہے

    پرہیز تپ ہجر سے ہے تجھ کو جو اے دل

    تو اور بھی آگے کبھی بیمار پڑا ہے

    فرمائیے روکے سے رکے ہیں کبھی عاشق

    دروازے پہ قفل آپ کے سو بار پڑا ہے

    میں دیر و حرم ہو کے ترے کوچے میں پہنچا

    دو منزلوں کا پھیر بس اے یار پڑا ہے

    کی ترک محبت تو لیا درد جگر مول

    پرہیز سے دل اور بھی بیمار پڑا ہے

    توقیر نہیں انجمن خاص میں دل کی

    شیشہ ترے مے خانہ میں بے کار پڑا ہے

    کچھ شام جدائی میں سجھائی نہیں دیتا

    پردہ خرد و ہوش پہ اے یار پڑا ہے

    جوہرؔ کہیں بکتی ہی نہیں جنس محبت

    کیا قحط وفا کا سر بازار پڑا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY