دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

حماد نیازی

دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

حماد نیازی

MORE BY حماد نیازی

    دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی

    دھوپ بھرے سناٹے میں آواز سنی ہے چھاؤں کی

    اک منظر میں سارے منظر پس منظر ہو جانے ہیں

    اک دریا میں مل جانی ہیں لہریں سب دریاؤں کی

    دشت نوردی اور ہجرت سے اپنا گہرا رشتہ ہے

    اپنی مٹی میں شامل ہے مٹی کچھ صحراؤں کی

    بارش کی بوندوں سے بن میں تن میں ایک بہار آئی

    گھر گھر گائے گیت گگن نے گونجیں گلیاں گاؤں کی

    صبح سویرے ننگے پاؤں گھاس پہ چلنا ایسا ہے

    جیسے باپ کا پہلا بوسہ قربت جیسے ماؤں کی

    اک جیسا احساس لہو میں جیتا جاگتا رہتا ہے

    ایک اداسی دے جاتی ہے دستک روز ہواؤں کی

    سینوں اور زمینوں کا اب منظر نامہ بدلے گا

    ہر سو کثرت ہو جانی ہے پھولوں اور دعاؤں کی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حماد نیازی

    حماد نیازی

    RECITATIONS

    حماد نیازی

    حماد نیازی

    حماد نیازی

    دل کے سونے صحن میں گونجی آہٹ کس کے پاؤں کی حماد نیازی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY