دل میں اور تو کیا رکھا ہے

ناصر کاظمی

دل میں اور تو کیا رکھا ہے

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    دل میں اور تو کیا رکھا ہے

    تیرا درد چھپا رکھا ہے

    اتنے دکھوں کی تیز ہوا میں

    دل کا دیپ جلا رکھا ہے

    دھوپ سے چہروں نے دنیا میں

    کیا اندھیر مچا رکھا ہے

    اس نگری کے کچھ لوگوں نے

    دکھ کا نام دوا رکھا ہے

    وعدۂ یار کی بات نہ چھیڑو

    یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے

    بھول بھی جاؤ بیتی باتیں

    ان باتوں میں کیا رکھا ہے

    چپ چپ کیوں رہتے ہو ناصرؔ

    یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام علی

    غلام علی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دل میں اور تو کیا رکھا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY