دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا
دل میں اک جذبۂ بیداد و جفا ہی ہوگا
وہ خدا وند بھی ہوگا تو خدا ہی ہوگا
گرد سی اڑتی نظر آتی ہے آندھی ہوگی
دور تک نقش قدم ہیں کوئی راہی ہوگا
ہم سے جو پوچھنا ہے پوچھ لو ورنہ کل تک
کس کو اندازۂ نا کردہ گناہی ہوگا
کہیں گرتی ہوئی دیواریں کہیں جھکتی چھتیں
آپ کہتے ہیں تو یہ قصر وفا ہی ہوگا
پھول سے ترسے ہوئے لوگ خرابوں میں کہاں
دشت وحشت میں کوئی آبلہ پا ہی ہوگا
جاتے جاتے مرے دروازے کے پٹ کھول گئی
یہ بھی اخترؔ کوئی انداز صبا ہی ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.