دل نے امداد کبھی حسب ضرورت نہیں دی

فرحت احساس

دل نے امداد کبھی حسب ضرورت نہیں دی

فرحت احساس

MORE BY فرحت احساس

    دل نے امداد کبھی حسب ضرورت نہیں دی

    دشت میں عقل نہ دی شہر میں وحشت نہیں دی

    عشق تو آج بھی ہے کس کے لہو سے سرسبز

    کس مہم کے لیے ہم نے تجھے اجرت نہیں دی

    دھوپ بولی کہ میں آبائی وطن ہوں تیرا

    میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی

    عشق میں ایک بڑا ظلم ہے ثابت قدمی

    وقت نے بھی ہمیں اس باب میں قدرت نہیں دی

    سر سلامت لیے لوٹ آئے گلی سے اس کی

    یار نے ہم کو کوئی ڈھنگ کی خدمت نہیں دی

    کون سی ایسی خوشی ہے جو ملی ہو اک بار

    اور تا عمر ہمیں جس نے اذیت نہیں دی

    اہل دل نے کبھی مخلوط حکومت نہ بنائی

    عقل والوں نے بھی بے شرط حمایت نہیں دی

    فرحتؔ احساس تو ہم خود ہی بنے ہیں ورنہ

    فرحت اللہ نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY