دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

الطاف حسین حالی

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

الطاف حسین حالی

MORE BYالطاف حسین حالی

    دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

    سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا

    تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط

    الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا

    اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست

    زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا

    دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں

    اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے گا

    مے تند و ظرف حوصلۂ اہل بزم تنگ

    ساقی سے جام بھر کے پلایا نہ جائے گا

    راضی ہیں ہم کہ دوست سے ہو دشمنی مگر

    دشمن کو ہم سے دوست بنایا نہ جائے گا

    کیوں چھیڑتے ہو ذکر نہ ملنے کا رات کے

    پوچھیں گے ہم سبب تو بتایا نہ جائے گا

    بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں جانتے ہیں وہ

    ہم وہ نہیں کہ ہم کو منایا نہ جائے گا

    ملنا ہے آپ سے تو نہیں حصر غیر پر

    کس کس سے اختلاط بڑھایا نہ جائے گا

    مقصود اپنا کچھ نہ کھلا لیکن اس قدر

    یعنی وہ ڈھونڈتے ہیں جو پایا نہ جائے گا

    جھگڑوں میں اہل دیں کے نہ حالیؔ پڑیں بس آپ

    قصہ حضور سے یہ چکایا نہ جائے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY