دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

احمد راہی

دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

احمد راہی

MORE BY احمد راہی

    دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہے

    درد کے ماروں سے اب بات کہاں ہوتی ہے

    ایک سے چہرے تو ہوتے ہیں کئی دنیا میں

    ایک سی صورت حالات کہاں ہوتی ہے

    زندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہے

    مل تو جاتے ہیں ملاقات کہاں ہوتی ہے

    آسمانوں سے کوئی بوند نہیں برسے گی

    جلتے صحراؤں میں برسات کہاں ہوتی ہے

    یوں تو اوروں کی بہت باتیں سنائیں ان کو

    اپنی جو بات ہے وہ بات کہاں ہوتی ہے

    جیسی آغاز محبت میں ہوا کرتی ہے

    ویسی پھر شدت جذبات کہاں ہوتی ہے

    پیار کی آگ بنا دیتی ہے کندن جن کو

    ان کے ذہنوں میں بھلا ذات کہاں ہوتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Rag-e-jan (Pg. 141)
    • Author : Ahmad Rahi
    • مطبع : Al-Hamd Publication (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY