دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

راجیندر منچندا بانی

دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    دن کو دفتر میں اکیلا شب بھرے گھر میں اکیلا

    میں کہ عکس منتشر ایک ایک منظر میں اکیلا

    اڑ چلا وہ اک جدا خاکہ لیے سر میں اکیلا

    صبح کا پہلا پرندہ آسماں بھر میں اکیلا

    کون دے آواز خالی رات کے اندھے کنویں میں

    کون اترے خواب سے محروم بستر میں اکیلا

    اس کو تنہا کر گئی کروٹ کوئی پچھلے پہر کی

    پھر اڑا بھاگا وہ سارا دن نگر بھر میں اکیلا

    ایک مدھم آنچ سی آواز سرگم سے الگ کچھ

    رنگ اک دبتا ہوا سا پورے منظر میں اکیلا

    بولتی تصویر میں اک نقش لیکن کچھ ہٹا سا

    ایک حرف معتبر لفظوں کے لشکر میں اکیلا

    جاؤ موجو میری منزل کا پتہ کیا پوچھتی ہو

    اک جزیرہ دور افتادہ سمندر میں اکیلا

    جانے کس احساس نے آگے نہیں بڑھنے دیا تھا

    اب پڑا ہوں قید میں رستے کے پتھر میں اکیلا

    ہو بہو میری طرح چپ چاپ مجھ کو دیکھتا ہے

    اک لرزتا خوبصورت عکس ساغر میں اکیلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY