دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی

افتخار عارف

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی

    دل کو خوں ہونے دیا آنکھ کو زحمت نہیں دی

    ہم بھی اس سلسلۂ عشق میں بیعت ہیں جسے

    ہجر نے دکھ نہ دیا وصل نے راحت نہیں دی

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں

    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ

    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

    بے وفا دوست کبھی لوٹ کے آئے تو انہیں

    ہم نے اظہار ندامت کی اذیت نہیں دی

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف

    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    مآخذ:

    • کتاب : Mahr-e-Do neem (Pg. 81)
    • Author : iftikhaar aarif

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY