دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے

پروین شاکر

دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے

    تری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے

    ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے

    یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے

    عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا

    میں مطمئن ہوں مرا دل تری پناہ میں ہے

    بکھر چکا ہے مگر مسکرا کے ملتا ہے

    وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے

    جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے

    وہ اک مکان ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے

    یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا

    ہماری سال گرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے

    میں بچ بھی جاؤں تو تنہائی مار ڈالے گی

    مرے قبیلے کا ہر فرد قتل گاہ میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY