دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

اقبال ساجد

دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

اقبال ساجد

MORE BYاقبال ساجد

    دنیا نے زر کے واسطے کیا کچھ نہیں کیا

    اور ہم نے شاعری کے سوا کچھ نہیں کیا

    غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی

    کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا

    چپ چاپ گھر کے صحن میں فاقے بچھا دئیے

    روزی رساں سے ہم نے گلہ کچھ نہیں کیا

    پچھلے برس بھی بوئی تھیں لفظوں کی کھیتیاں

    اب کے برس بھی اس کے سوا کچھ نہیں کیا

    غربت کی تیز آگ پہ اکثر پکائی بھوک

    خوش حالیوں کے شہر میں کیا کچھ نہیں کیا

    بستی میں خاک اڑائی نہ صحرا میں ہم گئے

    کچھ دن سے ہم نے خلق خدا کچھ نہیں کیا

    مانگی نہیں کسی سے بھی ہمدردیوں کی بھیک

    ساجدؔ کبھی خلاف انا کچھ نہیں کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY