دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

قتیل شفائی

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

قتیل شفائی

MORE BY قتیل شفائی

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    سرخ آہن پر ٹپکتی بوند ہے اب ہر خوشی

    زندگی نے یوں تو پہلے ہم کو ترسایا نہ تھا

    کیا ملا آخر تجھے سایوں کے پیچھے بھاگ کر

    اے دل ناداں تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا

    اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جس میں مخل

    زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا

    خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم

    حال دل کہنے کے قابل کوئی ہم سایہ نہ تھا

    ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی

    پاس اپنے اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا

    وہ پیمبر ہو کہ عاشق قتل گاہ شوق میں

    تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا

    اب کھلا جھونکوں کے پیچھے چل رہی تھیں آندھیاں

    اب جو منظر ہے وہ پہلے تو نظر آیا نہ تھا

    صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیلؔ

    ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    رادھکا چوپڑا

    رادھکا چوپڑا

    مآخذ:

    • Book : Beesveen Sadi Ki Behtareen Ishqiya Ghazlen (Pg. 178)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY