دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں

محسن زیدی

دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں

محسن زیدی

MORE BYمحسن زیدی

    دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں

    زیر پا تپتی زمیں ہے سر پہ جلتا آسماں

    جیسے دو ملکوں کو اک سرحد الگ کرتی ہوئی

    وقت نے خط ایسا کھینچا میرے اس کے درمیاں

    اب کے سیلاب بلا سب کچھ بہا کر لے گیا

    اب نہ خوابوں کے جزیرے ہیں نہ دل کی کشتیاں

    لطف ان کا اب ہوا تو ہے مگر کچھ اس طرح

    جیسے صحرا سے گزر جائے کوئی ابر رواں

    منحصر ہے ایسی اک بنیاد پر اس کا یقیں

    جس طرح دوش ہوا پر کوئی تنکوں کا مکاں

    بے زبانوں سے خموشی کا گلہ کیسا کہ جب

    سو گئے لفظوں کی چادر تان کر اہل زباں

    یہ سفر کیسا ہے محسنؔ جتنا بڑھتے جائیے

    بڑھتی جائیں اتنی ہی منزل بہ منزل دوریاں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY