انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

قمر جلالوی

انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

قمر جلالوی

MORE BYقمر جلالوی

    انہیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں

    وہ شاخ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

    اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں

    تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں

    وہ ہنس کر کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے

    یہ کب کب کے فسانے عید میں دہرائے جاتے ہیں

    نہ چھیڑ اتنا انہیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی

    کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں

    قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سے

    ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Auj-Qamar (Pg. 36)
    • Author : Ustad Sayed Mohd. Hussain Qamar Jalalvi
    • مطبع : Shaikh Shokat Ali And Sons (1952)
    • اشاعت : 1952

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY