ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

حامد مختار حامد

ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

حامد مختار حامد

MORE BYحامد مختار حامد

    ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں

    پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہ گار ہوں میں

    گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے

    اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں

    در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی

    تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں

    کتنا مضبوط ہے اے دوست تعلق کا محل

    برف کی چھت ہے جو تو ریت کی دیوار ہوں میں

    خون بر دوش ہوں میں زنگ رسیدہ تو نہیں

    ہے مجھے فخر کہ ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں

    یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو

    یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں

    ہاتھ پھیلا تو کسی سائے نے روکا حامدؔ

    اس سے پوچھا تو کہا جذبۂ خود دار ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY