ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

رفیع رضا

ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

رفیع رضا

MORE BYرفیع رضا

    ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے

    اس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہے

    بے بسی کیسا پرندہ ہے تمہیں کیا معلوم

    اسے معلوم ہے جو میرے برابر گم ہے

    چرخ سو رنگ کو فرصت ہو تو ڈھونڈے اس کو

    نیلگوں سوچ میں جو مست قلندر گم ہے

    دھوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی

    آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر گم ہے

    سنگ ریزوں میں مہکتا ہے کوئی سرخ گلاب

    وہ جو ماتھے پہ لگا تھا وہی پتھر گم ہے

    ایک مدفون دفینہ انہیں اطراف میں تھا

    خاک اڑتی ہے یہاں اور وہ گوہر گم ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY