فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میر تقی میر

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میر تقی میر

MORE BY میر تقی میر

    INTERESTING FACT

    فلم بازار ۱۹۸۲

    فقیرانہ آئے صدا کر چلے

    کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

    جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم

    سو اس عہد کو اب وفا کر چلے

    شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی

    کہ مقدور تک تو دوا کر چلے

    پڑے ایسے اسباب پایان کار

    کہ ناچار یوں جی جلا کر چلے

    وہ کیا چیز ہے آہ جس کے لیے

    ہر اک چیز سے دل اٹھا کر چلے

    کوئی ناامیدانہ کرتے نگاہ

    سو تم ہم سے منہ بھی چھپا کر چلے

    بہت آرزو تھی گلی کی تری

    سو یاں سے لہو میں نہا کر چلے

    دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

    ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

    جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی

    حق بندگی ہم ادا کر چلے

    پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے

    نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے

    جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں

    چمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے

    نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے

    ہمیں داغ اپنا دکھا کر چلے

    گئی عمر در بند فکر غزل

    سو اس فن کو ایسا بڑا کر چلے

    کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ

    جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ثریا

    ثریا

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites