فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

وپل کمار

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

وپل کمار

MORE BY وپل کمار

    فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

    تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے

    کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول

    جیسے ترے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے

    اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا ملا

    اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے

    اس کے بدن کا موڑ بڑا خوش گوار ہے

    ہم بھی سفر میں عمر سے ٹھہرے نہیں ہوئے

    اک روز کھیل کھیل میں ہم اس کے ہو گئے

    اور پھر تمام عمر کسی کے نہیں ہوئے

    ہم آ کے تیری بزم میں بے شک ہوئے ذلیل

    جتنے گناہ گار تھے اتنے نہیں ہوئے

    اس بار جنگ اس سے رعونت کی تھی سو ہم

    اپنی انا کے ہو گئے اس کے نہیں ہوئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    وپل کمار

    وپل کمار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY