ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی

الیاس بابر اعوان

ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی

الیاس بابر اعوان

MORE BYالیاس بابر اعوان

    ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی

    ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی

    لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے

    میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی

    سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے

    بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی

    یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا

    گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی

    امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا

    دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی

    ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے

    جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY