فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

امیر قزلباش

فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

امیر قزلباش

MORE BYامیر قزلباش

    فکر غربت ہے نہ اندیشۂ تنہائی ہے

    زندگی کتنے حوادث سے گزر آئی ہے

    لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں

    میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے

    ہم نہ سقراط نہ منصور نہ عیسیٰ لیکن

    جو بھی قاتل ہے ہمارا ہی تمنائی ہے

    زندگی اور ہیں کتنے ترے چہرے یہ بتا

    تجھ سے اک عمر کی حالانکہ شناسائی ہے

    کون ناواقف انجام تبسم ہے امیرؔ

    میرے حالات پہ یہ کس کو ہنسی آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY