گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

ناصر کاظمی

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

ناصر کاظمی

MORE BY ناصر کاظمی

    گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

    مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل

    ایک سمے ترا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانوں پر

    ایک یہ وقت کہ میں تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل

    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے

    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

    میں تو ایک نئی دنیا کی دھن میں بھٹکتا پھرتا ہوں

    میری تجھ سے کیسے نبھے گی ایک ہیں تیرے فکر و عمل

    میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ اس کالی رات کو دیکھ

    میں وہی تیرا ہم راہی ہوں ساتھ مرے چلنا ہو تو چل

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ناصر کاظمی

    ناصر کاظمی

    RECITATIONS

    ناصر کاظمی

    ناصر کاظمی

    ناصر کاظمی

    گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل ناصر کاظمی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY