گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

افتخار عارف

گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

افتخار عارف

MORE BYافتخار عارف

    گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا

    جو دل میں ہے اب اس کا تذکرہ کرنا پڑے گا

    نتیجہ کربلا سے مختلف ہو یا وہی ہو

    مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑے گا

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں

    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    لہو دینے لگی ہے چشم خوں بستہ سو اس بار

    بھری آنکھوں سے خوابوں کو رہا کرنا پڑے گا

    مبادا قصۂ اہل جنوں نا گفتہ رہ جائے

    نئے مضمون کا لہجہ نیا کرنا پڑے گا

    درختوں پر ثمر آنے سے پہلے آئے تھے پھول

    پھلوں کے بعد کیا ہوگا پتہ کرنا پڑے گا

    گنوا بیٹھے تری خاطر ہم اپنے مہر و ماہتاب

    بتا اب اے زمانے اور کیا کرنا پڑے گا

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    گلی کوچوں میں ہنگامہ بپا کرنا پڑے گا افتخار عارف

    مآخذ
    • کتاب : Mahr-e-Do neem (Pg. 47)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY