گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

غلام محمد قاصر

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

غلام محمد قاصر

MORE BYغلام محمد قاصر

    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے

    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

    اک خواب نما بیداری میں جاتے ہوئے اس کو دیکھا تھا

    احساس کی لہروں میں اب تک حیرت کا سفینہ بہتا ہے

    پھر جسم کے منظر نامے میں سوئے ہوئے رنگ نہ جاگ اٹھیں

    اس خوف سے وہ پوشاک نہیں بس خواب بدلتا رہتا ہے

    چھ دن تو بڑی سچائی سے سانسوں نے پیام رسانی کی

    آرام کا دن ہے کس سے کہیں دل آج جو صدمے سہتا ہے

    ہر عہد نے زندہ غزلوں کے کتنے ہی جہاں آباد کیے

    پر تجھ کو دیکھ کے سوچتا ہوں اک شعر ابھی تک رہتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام محمد قاصر

    غلام محمد قاصر

    غلام محمد قاصر

    غلام محمد قاصر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY