غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

شکیل بدایونی

غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

شکیل بدایونی

MORE BY شکیل بدایونی

    غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر

    وہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کر

    تری گفتگو کو ناصح دل غم زدہ سے جل کر

    ابھی تک تو سن رہا تھا مگر اب سنبھل سنبھل کر

    نہ ملا سراغ منزل کبھی عمر بھر کسی کو

    نظر آ گئی ہے منزل کبھی دو قدم ہی چل کر

    غم عمر مختصر سے ابھی بے خبر ہیں کلیاں

    نہ چمن میں پھینک دینا کسی پھول کو مسل کر

    ہیں کسی کے منتظر ہم مگر اے امید مبہم

    کہیں وقت رہ نہ جائے یوں ہی کروٹیں بدل کر

    مرے دل کو راس آیا نہ جمود غیر فانی

    ملی راہ زندگانی مجھے خار سے نکل کر

    مری تیز گامیوں سے نہیں برق کو بھی نسبت

    کہیں کھو نہ جائے دنیا مرے ساتھ ساتھ چل کر

    کبھی یک بہ یک توجہ کبھی دفعتاً تغافل

    مجھے آزما رہا ہے کوئی رخ بدل بدل کر

    ہیں شکیلؔ زندگی میں یہ جو وسعتیں نمایاں

    انہیں وسعتوں سے پیدا کوئی عالم غزل کر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY