غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

مرزا غالب

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

    یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے

    کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے ورنہ

    ہے یوں کہ مجھے درد تہ جام بہت ہے

    نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں

    گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

    کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائی

    پاداش عمل کی طمع خام بہت ہے

    ہیں اہل خرد کس روش خاص پہ نازاں

    پابستگی رسم و رہ عام بہت ہے

    زمزم ہی پہ چھوڑو مجھے کیا طوف حرم سے

    آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

    ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کو

    انکار نہیں اور مجھے ابرام بہت ہے

    خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگ

    رہنے دے مجھے یاں کہ ابھی کام بہت ہے

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے

    شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    RECITATIONS

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے ضیا محی الدین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY