غم سے نہ آنسوؤں سے نہ دیوانگی سے ہم

ماجد علی کاوش

غم سے نہ آنسوؤں سے نہ دیوانگی سے ہم

ماجد علی کاوش

MORE BYماجد علی کاوش

    غم سے نہ آنسوؤں سے نہ دیوانگی سے ہم

    واقف نہیں تھے آپ سے پہلے کسی سے ہم

    زندہ رکھیں بزرگوں کی ہم نے روایتیں

    دشمن سے بھی ملے تو ملے عاجزی سے ہم

    سب سرپھری ہواؤں کو دشمن بنا لیا

    روشن ہوئے تھے لڑنے کو اک تیرگی سے ہم

    سانسیں مہک رہی ہیں نگاہوں میں نور ہے

    پھر آج مل کے آئے ہیں اک آدمی سے ہم

    سورج تو صرف دن کے اجالے کا ہے امام

    ہم ہیں چراغ لڑتے ہیں تیرہ شبی سے ہم

    بدنام ہو رہا ہے مقدر تو بے سبب

    برباد ہیں خود اپنے عمل کی کمی سے ہم

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY